منگلورو 11 / اگست (ایس او نیوز) بی جے پی یووا مورچہ لیڈر پروین کمار نیٹارو قتل کیس کے تین کلیدی ملزمین کو آج بدھ صبح گرفتار کیے جانے کے بعد اے ڈی جی پی آلوک کمار نے اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہاب (33) ، بشیر(29) اور ریاض (27) کو تلپاڈی چیک پوسٹ کے پاس سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم شہاب پرائیویٹ فیکٹری کو کوکا سپلائی کرتا ہے ، بشیر ہوٹل میں ملازمت کرتا ہے اور ریاض چکن سپلائی کرتا ہے ۔ ان ملزمین سے ابتدائی تفتیش پوری ہوگئی ہے اب عدالت سے ان کی مزید پولیس کسٹڈی طلب کی جائے گی ۔
اے ڈی جی پی نے کہا :" ہمیں پروین مرڈر کا مقصد اور ملزمین کو پناہ دینے والوں کی تفصیلات جاننے کے لئے گہری تفتیش کرنی ہوگی ۔ ایس پی رشی کیش سوناونے کی قیادت میں تفتیشی ٹیم نے اس کیس کو حل کیا ہے ۔ انہیں مناسب انعام دیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ ہاسن کے ایس پی ہری رام شنکر اور دیگر افسران نے بھی بہت تعاون کیا ہے ۔ امکانی طور پر ہم یہ کیس تین چار دنوں کے اندر این آئی اے کے حوالے کریں گے ۔"
انہوں نے کہا کہ :" شروع سے ہی ہمیں شک تھا کہ قاتلوں کا تعلق پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی سے ہے ۔ ہمیں ملزمین کے تعلق سے ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی سے ہے یا نہیں یہ ثابت کرنے کے لئے ثبوت اکٹھا کرنے ہونگے ۔ گرفتار ملزمین میں سے ایک شفیق کے والد ابراہیم نے تین مہینے تک پروین کی دکان میں ملازمت کی تھی ۔ پروین اور شفیق ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔"
قاتلانہ حملہ کرنے والوں کے تعلق انہوں نے بتایا کہ " قتل کے بعد حملہ آور بیکل کی ایک مسجد میں چھپے تھے ۔ جرم کو انجام دینے کے لئے پانچ دو پہیہ گاڑیاں اور ایک کار استعمال کی گئی تھیں ۔ ان گاڑیوں کو ضبط کرنا باقی ہے ۔ "
شرتھ مڈیوال قتل کیس کا مفرور ملزم مشرق وسطیٰ میں چھپے ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے اے ڈی جی پی نے کہا : " ہم نے پروین مرڈر کیس کے مفرور ملزمین کی پراپرٹی ضبط کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ، لیکن اب یہ پکڑے جا چکے ہیں ۔ آئندہ کسی بڑے جرم میں اگر کوئی ملزم فرار ہوجاتا ہے تو پھر ہم کورٹ سے وارنٹ سے جاری کرکے پراپرٹی ضبط کرنے کی کارروائی شروع کریں گے ۔"
پریس کانفرنس کے دوران ایس رشی کیش سوناونے اور آئی جی پی ویسٹرن رینج دیوجیوتھی رے موجود تھے ۔